ایک کمپنی ہے وہ اپنی پروڈکٹس پر دو طرح سے ڈسکاؤنٹ لگاتی ہے ۔
1. پروڈکٹ کی اصل قیمت 1000 روپے ہے، لیکن کمپنی اگر اس پر 20 ڈسکاؤنٹ لگا کر 800 روپے کی بیچے تو لوگ کم ہی توجہ دیتے ہیں ۔ اس لئے کمپنی عید یا کسی ایونٹ کے موقع پر اپنی پراڈکٹ کی اصل قیمت 1200 روپے کر دیتی ہے اور اس پر 33 ڈسکاؤنٹ دیتی ہے جس کی قیمت 800 روپے بنتی ہے یعنی ڈسکاؤنٹ کے بعد قیمت اتنی ہی بن رہی ہے ہے جتنی قیمت 1000 روپے پر ڈسکاؤنٹ کے بعد بنتی تھی لیکن اب ڈسکاؤنٹ کی فیصد زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ متوجہ ہوں گے اور پراڈکٹ خریدیں گے قیمت بڑھانے سے کمپنی کا مقصد ڈسکاؤنٹ پر چیز بیچتا ہے نہ کہ اصل قیمت یا اس سے زائد پر ۔کیا یہ صورت جائز ہے ؟
2. دوسری دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ کمپنی 1000 روپے والی پراڈکٹ 2000 روپے کر دے اور پھر اس پر 50 فیصدڈسکاؤنٹ لگا کر 1000 روپے میں فروخت کر دے یا 40فیصد ڈسکاؤنٹ لگا کر 1200 روپے میں فروخت کر دے ۔ اس صورت میں دراصل ڈسکاؤنٹ نہیں ہوتا بلکہ چیز اصل قیمت یا اس سے زیادہ ہی پر فروخت ہو رہی ہوتی ہے ۔ کیا یہ صورت جائز ہے ؟ اور کیا دونوں صورتوں میں فرق ہے یا دونوں کا حکم ایک ہی ہے ؟
مذکورہ دونوں صورتوں میں دھوکہ کا پہلو معلوم ہوتا ہے؛ کیونکہ عرف عام میں رعایت ( ڈسکاؤنٹ) دینے کا مطلب عام دنوں میں جو قیمت ہوتی ہے اس میں رعایت دینا اور کمی کرنا ہے جبکہ مذکورہ صورتوں میں ایسا نہیں ہے، بلکہ قیمت اس لئے بڑھائی جاتی ہے تاکہ ڈسکاؤنٹ زیادہ نظر آئے یا وہ چیز اصل قیمت یا اس سے زائد پر فروخت ہو ، رعایت (ڈسکاؤنٹ) محض دکھانے کے لئے ہے ، دونوں صورتوں میں گاہک کو ظاہری طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عام دنوں میں یہی قیمت ہوتی ہے ، اور اب خاص موقعوں کی مناسبت سے رعایت (ڈسکاؤنٹ ) مل رہی ہے ، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے ، لہذا ان دونوں صورتوں کو اختیار کرنے سے بچا جائے۔
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (١/ ١٩)
الأمور بمقاصدها يعني أن الحكم الذي يترتب على أمر يكون على مقتضى ما هو المقصود من ذلك الأمر.
منحة الخالق لابن عابدين (٣٨/٦)
[باب خيار العيب (قوله وفسره في فتح القدير إلخ) قال الرملي أقول: فسره بذلك كثير (فائدة) سئل بعض الشافعية أقول: وهو ابن حجر الهيتمي وهي في فتاويه عن رجل عجان خباز يعجن الخبز للبيع ويبيعه على الناس وهو أبرص أجذم ذو حكة وسوداء فهل يجوز له أن يباشر الخبز المذكور وهو بتلك الصفات أم لا فأجاب بقوله لا يجوز بيع ما باشر نحو عجنه إلا أن يبين للمشتري حقيقة الحال لأن المشتري لو اطلع على ذلك لم يشتره منه في الغالب وكل ما كان كذلك يكون كتمه من الغش المحرم وقد قال صلى الله عليه وسلم «من غش أمتي فليس مني .... وقواعدنا لا تأباه وضابط الغش المحرم أن يشتمل المبيع على وصف نقص لو علم به المشتري امتنع عن شرائه فكل ما كان كذلك يكون غشا وكل ما لا يكون كذلك لا يكون غشا محرما ذكره في الفتاوى المذكورة ولا مانع منه عندنا تأمل اهـ والله سبحانه و تعالیٰ اعلم بالصواب